صحیح ابن حبان
كتاب العدوى والطيرة والفأل— کتاب: بیماریوں کے اثر، بدشگونی اور نیک فال کے احکام و مسائل
باب الهام والغول - ذكر الزجر عن قول المرء بالهام الذي كان يقول به أهل الجاهلية- باب: وہم و جناتی فریب کا بیان - باب الہام والغول - ذکر منع کہ انسان ہام کہے جو جاہلیت کے لوگ کہتے تھے
حدیث نمبر: 6127
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الْجَمَّالُ الرَّازِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الْحَضْرَمِيُّ بْنُ لاحِقٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، قَالَ : سَأَلْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ عَنِ الطِّيَرَةِ ، فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لا عَدْوَى وَلا طِيَرَةَ ، وَلا هَامَ ، فَإِنْ تَكُ الطِّيَرَةُ فِي شَيْءٍ فَفِي الْمَرْأَةِ وَالْفَرَسِ وَالدَّارِ " .سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے طیرہ کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے بتایا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے۔ ” عدوی، طیرہ، ہام کی کوئی حیثیت نہیں ہے اگر طیرہ کسی چیز میں ہونی ہوتی تو عورت میں یا گھوڑے میں یا گھر میں ہوتی۔ “