صحیح ابن حبان
كتاب العدوى والطيرة والفأل— کتاب: بیماریوں کے اثر، بدشگونی اور نیک فال کے احکام و مسائل
ذكر ما يجب على المرء من لزوم التفاؤل وترك التطير اقتداء برسول الله صلى الله عليه وسلم- باب: - ذکر کہ انسان پر لازم ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں خوش فہمی کو لازم پکڑے اور بدشگونی ترک کرے
حدیث نمبر: 6124
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لا طِيَرَةَ ، وَخَيْرُهَا الْفَأْلُ " ، قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا الْفَأْلُ ؟ قَالَ : " الْكَلِمَةُ الصَّالِحَةُ يَسْمَعُهَا أَحَدُكُمْ " .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ” بدشگونی کی کوئی حیثیت نہیں ہے اور ان میں سب سے بہتر چیز فال ہے عرض کی گئی یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! فال سے کیا مراد ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ اچھی بات جسے کوئی شخص سنتا ہے۔ “