صحیح ابن حبان
كتاب العدوى والطيرة والفأل— کتاب: بیماریوں کے اثر، بدشگونی اور نیک فال کے احکام و مسائل
ذكر الخبر الدال على أن الطيرة تؤذي المتطير خلاف ما تؤذي غير المتطير- باب: - ذکر خبر جو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ بدشگونی اسے نقصان دیتی ہے جو بدشگونی لیتا ہے، نہ کہ اسے جو نہیں لیتا
حدیث نمبر: 6123
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ حُمَيْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا طِيَرَةَ ، وَالطِّيَرَةُ عَلَى مَنْ تَطَيَّرَ ، وَإِنْ تَكُ فِي شَيْءٍ ، فَفِي الدَّارِ وَالْفَرَسِ وَالْمَرْأَةِ " .سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” طیرہ کی کوئی حیثیت نہیں ہے اس کا وبال اس پر ہو گا، جو بدشگونی کرے گا اگر یہ (نحوست) کسی چیز میں ہوتی تو گھر میں ہوتی یا گھوڑے میں ہوتی، یا عورت میں ہوتی۔ “