صحیح ابن حبان
كتاب العدوى والطيرة والفأل— کتاب: بیماریوں کے اثر، بدشگونی اور نیک فال کے احکام و مسائل
ذكر الإباحة للمرء مؤاكلة ذوي العاهات ضد قول من كرهه- باب: - ذکر اجازت کہ انسان معذوروں کے ساتھ کھانا کھائے اس کے خلاف جو اسے ناپسند کرتا ہے
حدیث نمبر: 6120
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، قَالَ حَدَّثَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى الْمُخَرِّمِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : أَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِ مَجْذُومٍ ، فَأَدْخَلَهَا مَعَهُ فِي الْقَصْعَةِ ، وَقَالَ : " كُلْ بِاسْمِ اللَّهِ ، ثِقَةً بِاللَّهِ ، وَتَوَكُّلا عَلَيْهِ " . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : مُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ هَذَا هُوَ أَخُو مُبَارَكِ بْنِ فَضَالَةَ ، لَيْسَ بِالْمُفَضَّلِ بْنِ فَضَالَةَ الْقِتْبَانِيِّ ، وَهُمَا جَمِيعًا ثِقَتَانِ .سیدنا جابر بن عبداللہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مجذوم شخص کا ہاتھ پکڑا اسے اپنے ساتھ پیالے میں داخل کیا، فرمایا تم اللہ کا نام لے کر اللہ تعالیٰ پر یقین رکھتے ہوئے اور اس پر توکل کر کے کھاؤ۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) مفضل بن فضالہ نامی راوی یہ مبارک بن فضالہ کا بھائی ہے یہ مفضل بن فضالہ قتبانی نہیں ہے ویسے یہ دونوں راوی ثقہ ہیں۔