صحیح ابن حبان
كتاب العدوى والطيرة والفأل— کتاب: بیماریوں کے اثر، بدشگونی اور نیک فال کے احکام و مسائل
ذكر الإخبار عن نفي جواز قول المرء بالعدوى- باب: - ذکر خبر کہ انسان کا عدوٰی کہنا جائز نہیں
حدیث نمبر: 6118
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أن رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لا عَدْوَى ، وَلا طِيَرَةَ ، جَرَبِ بَعِيرٌ ، وَأَجْرَبَ مِئَةً ، فَمَنْ أَعْدَى الأَوَّلَ ؟ " .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” عدوی اور طیرہ کی کوئی حیثیت نہیں ہے ایک اونٹ خارش زدہ ہوتا ہے، تو وہ ایک سو اونٹوں کو خارش زدہ کر دیتا ہے، لیکن پہلے کو کس نے خارش کا شکار کیا۔ “