صحیح ابن حبان
كتاب العدوى والطيرة والفأل— کتاب: بیماریوں کے اثر، بدشگونی اور نیک فال کے احکام و مسائل
ذكر الزجر عن قول المرء بالعدوى والصفر الذي كان يقول به أهل الجاهلية- باب: - ذکر منع کہ انسان عدوٰی اور صفر کہے جو جاہلیت کے لوگ کہتے تھے
حدیث نمبر: 6116
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا عَدْوَى ، وَلا صَفَرَ ، وَلا هَامَةَ " ، فَقَالَ الأَعْرَابِيُّ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَمَا بَالُ الإِبِلِ تَكُونُ فِي الرَّمْلِ كَأَنَّهَا الظِّبَاءُ ، فَيَجِيءُ الْبَعِيرُ الأَجْرَبُ ، فَيَدْخُلُ فِيهَا فَيُجْرِبُهَا ؟ قَالَ : " فَمَنْ أَعْدَى الأَوَّلَ ؟ " .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” عدوی، صفر اور ہامہ کی کوئی حیثیت نہیں ہے ایک دیہاتی نے عرض کی: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! اونٹوں کا کیا معاملہ ہے وہ ریگستان میں یوں بھاگتے پھرتے ہیں جیسے وہ ہرن ہوتے ہیں پھر ایک خارش زدہ اونٹ آتا ہے ان میں شامل ہوتا ہے، تو ان کو خارش زدہ کر دیتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا پہلے کو کس نے خارش کا شکار کیا تھا۔ “