صحیح ابن حبان
كتاب الرقى والتمائم— کتاب: رُقیہ اور تعویذ کے احکام و مسائل
ذكر الإباحة للمرء أخذ الأجرة المشترطة في البداية على الرقى- باب: - ذکر اجازت کہ انسان رقیت پر شروع میں طے شدہ اجرت لے
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَخِيهِ مَعْبَدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : نَزَلْنَا مَنْزِلا ، فَأَتَتْنَا امْرَأَةٌ ، فَقَالَتْ : إِنَّ سَيِّدَ الْحَيِّ سُلَيْمٌ لُدِغَ ، فَهَلْ فِيكُمْ مِنْ رَاقٍ ؟ فَقَالَ : فَقَامَ مَعَهَا رَجُلٌ مِنَّا ، كُنَّا نَظُنُّهُ يُحْسِنُ رُقْيَةً ، فَرَقَى بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَبَرَأَ ، فَأَعْطَوْهُ غَنَمًا ، وَسَقَوْهُ لَبَنًا ، قَالَ : فَقُلْتُ لا تُحَرِّكُوهُ حَتَّى نَأْتِيَ نَأْتِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ : " مَا كَانَ يُدْرِيهِ أَنَّهَا رُقْيَةٌ ؟ اقْسِمُوا وَاضْرِبُوا لِي بِسَهْمٍ مَعَكُمْ " .سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نے ایک جگہ پڑاؤ کیا ایک عورت ہمارے پاس آئی اور بولی: اس قبیلے کے سردار کو کسی زہریلی چیز نے کاٹ لیا ہے کیا تمہارے درمیان کوئی دم کرنے والا ہے۔ راوی کہتے ہیں: تو ہم میں سے ایک شخص اٹھ کر اس کے ساتھ چلا گیا ہم اس کے بارے میں یہ گمان کرتے تھے کہ یہ اچھا دم کر لیتا ہے اس نے سورہ فاتحہ پڑھ کر دم کیا تو وہ شخص ٹھیک ہو گیا ان لوگوں نے ہمیں بکریاں دیں اور ہمیں دودھ بھی پلایا۔ راوی کہتے ہیں: میں نے کہا: تم لوگ انہیں حرکت نہ دو جب تک ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر نہیں ہو جاتے پھر ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا سے کیسے پتہ چلا کہ اس سورت کا دم بھی ہوتا ہے تم لوگ ان کو تقسیم کر لو اور اپنے ساتھ میرا بھی حصہ رکھو۔