حدیث نمبر: 6110
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ الصَّلْتِ التَّمِيمِيِّ ، عَنْ عَمِّهِ ، أَنَّهُ مَرَّ بِقَوْمٍ عِنْدَهُمْ مَجْنُونٌ مُوثَقٌ فِي الْحَدِيدِ ، فَقَالَ لَهُ بَعْضُهُمْ : عِنْدَكَ شَيْءٌ تُدَاوِي هَذَا بِهِ ؟ فَإِنَّ صَاحِبَكُمْ قَدْ جَاءَ بِخَيْرٍ ، قَالَ : فَقَرَأْتُ عَلَيْهِ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ ، كُلَّ يَوْمٍ مَرَّتَيْنِ ، فَبَرَأَ ، فَأَعْطَاهُ مِائَةَ شَاةٍ ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ لَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلْ ، فَمَنْ أَكَلَ بِرُقْيَةِ بَاطِلٍ ، فَقَدْ أَكَلْتَ بِرُقْيَةِ حَقٍّ " .

خارجہ بن صلت تیمی اپنے چچا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں، وہ کسی قوم کے پاس سے گزرے جن میں ایک پاگل شخص تھا جسے لوہے میں باندھا گیا تھا ان میں سے کسی نے کہا: کیا آپ کے پاس کوئی ایسی چیز ہے، جس کے ذریعے آپ اس کا علاج کر سکیں کیونکہ آپ کے ساتھی بھلائی لے کر آئے ہیں۔ راوی کہتے ہیں: تو میں نے تین دن تک اس پر سورہ فاتحہ پڑھ کر دم کیا روزانہ میں دو مرتبہ اس کو دم کرتا تھا وہ ٹھیک ہو گیا، تو اس شخص نے انہیں ایک سو بکریاں دیں وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اسے کھا لو کیونکہ جو شخص باطل دم کے ذریعے کھاتا ہے (وہ ممنوع ہے) تم تو حق کے دم کے ذریعے کھانے لگے ہو۔

حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الرقى والتمائم / حدیث: 6110
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن صحيح - انظر ما بعده. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 6077»