صحیح ابن حبان
كتاب الرقى والتمائم— کتاب: رُقیہ اور تعویذ کے احکام و مسائل
ذكر الخبر الدال على صحة ما تأولنا تلك الصفة المعبر عنها في الباب المتقدم- باب: - ذکر خبر جو ہمارے بیان کردہ صفت کی صحت کی طرف اشارہ کرتی ہے
حدیث نمبر: 6099
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ بِبُسْتَ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ بِالْمَرِيضِ يَدْعُو وَيَقُولُ : " أَذْهِبِ الْبَأْسَ ، رَبَّ النَّاسِ ، اشْفِ أَنْتَ الشَّافِي ، لا شِفَاءَ إِلا شِفَاؤُكَ ، شِفَاءً لا يُغَادِرُ سَقَمًا " .سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کوئی بیمار لایا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کرتے تھے۔ ” اے لوگوں کے پروردگار! تو تکلیف کو دور کر دے، تو شفاء عطا کر دے، تو ہی شفاء عطا کرنے والا ہے شفاء صرف وہی ہے جو تو نے عطا کی ہو، تو ایسی شفاء عطا کر دے جو بیماری کو بالکل نہ رہنے دے۔ “