صحیح ابن حبان
كتاب الرقى والتمائم— کتاب: رُقیہ اور تعویذ کے احکام و مسائل
ذكر التغليظ على من قال بالرقى والتمائم متكلا عليها- باب: - ذکر شدت کہ جو رقیت اور تمائم پر بھروسہ کرتا ہے
حدیث نمبر: 6091
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى بِالْمَوْصِلِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرُّقَى ، وَلِي خَالٌ يَرْقِي مِنَ الْعَقْرَبِ ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ : " مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَنْفَعَ أَخَاهُ ، فَلْيَفْعَلْ " .سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جھاڑ پھونک سے منع کیا ہے میرے ماموں بچھو کے کاٹے کا دم کیا کرتے تھے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم میں سے جو شخص اپنے کسی بھائی کو کوئی بھی فائدہ پہنچا سکتا ہو اسے وہ کرنا چاہئے۔