صحیح ابن حبان
كتاب الرقى والتمائم— کتاب: رُقیہ اور تعویذ کے احکام و مسائل
ذكر التغليظ على من قال بالرقى والتمائم متكلا عليها- باب: - ذکر شدت کہ جو رقیت اور تمائم پر بھروسہ کرتا ہے
حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنِ الْعَلاءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ ، قَالَ : دَخَلَ عَبْدُ اللَّهِ عَلَى امْرَأَةٍ وَفِي عُنُقِهَا شَيْءٌ مَعَقُودٌ ، فَجَذَبَهُ فَقَطَعَهُ ، ثُمَّ قَالَ : لَقَدْ أَصْبَحَ آلُ عَبْدِ اللَّهِ أَغْنِيَاءَ أَنْ يُشْرِكُوا بِاللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِ سُلْطَانًا ، ثُمَّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ الرُّقَى وَالتَّمَائِمَ وَالتِّوَلَةَ شِرْكٌ " ، قَالُوا : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، هَذِهِ الرُّقَى وَالتَّمَائِمُ قَدْ عَرَفْنَاهَا ، فَمَا التِّوَلَةُ ؟ قَالَ : شَيْءٌ يَصْنَعُهُ النِّسَاءُ يَتَحَبَّبْنَ إِلَى أَزْوَاجِهِنَّ .یہ بن جزار بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ ایک خاتون کے پاس تشریف لے گئے جس نے اپنی گردن میں تعویذ باندھا ہوا تھا سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کھینچ کر اسے کاٹ دیا پھر انہوں نے فرمایا: عبداللہ کے گھر والے اس چیز سے بے نیاز ہیں جو کسی کو اللہ کا شریک قرار دیں، جب تک اس بارے میں کوئی دلیل نازل نہیں ہوتی پھر انہوں نے یہ بات بیان کی میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے۔ ” بے شک جھاڑ پھونک تعویذ اور تولہ شرک ہے لوگوں نے کہا: اے ابوعبدالرحمن جھاڑ پھونک اور تعویذ کا، تو ہمیں پتہ ہے یہ لفظ تولہ کیا ہوتا ہے۔ انہوں نے فرمایا: یہ وہ کام ہے جو خواتین کرتی ہیں تاکہ اپنے شوہروں کی محبت حاصل کر لیں۔ “