صحیح ابن حبان
كتاب الرقى والتمائم— کتاب: رُقیہ اور تعویذ کے احکام و مسائل
ذكر العلة التي من أجلها زجر عن هذا الفعل- باب: - ذکر وجہ جس کی بنا پر اس فعل سے منع کیا گیا
حدیث نمبر: 6088
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَيَّانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْخَزَّازُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي عَضُدِهِ حَلَقَةٌ مِنْ صُفْرٍ ، فَقَالَ : " مَا هَذِهِ ؟ " قَالَ : مِنَ الْوَاهِنَةِ ؟ قَالَ : أَيَسُرُّكَ أَنْ تُوكَلَ إِلَيْهَا ؟ ! انْبِذْهَا عَنْكَ " .سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے کلائی پر پیتل کا کڑا پہنا ہوا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا یہ کس وجہ سے ہے انہوں نے عرض کی: کمزوری کی وجہ سے ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں یہ بات پسند ہے کہ تمہیں اس کے سپرد کر دیا جائے؟ تم اسے اتار دو۔