صحیح ابن حبان
كتاب الطب— کتاب: علاج و معالجہ کے احکام و مسائل
ذكر الزجر عن أن يكوي المرء شيئا من بدنه لعلة تحدث- باب: - ذکر منع کہ انسان اپنے جسم کے کسی حصے کو بیماری کی وجہ سے داغ لگائے
حدیث نمبر: 6082
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الأَحْوَصِ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " جَاءَ نَاسٌ ، فَسَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَاحِبٍ لَهُمْ أَنْ يَكْوُوهُ ، فَسَكَتَ ، ثُمَّ سَأَلُوهُ ثَلاثًا : فَسَكَتَ ، وَكَرِهَ ذَلِكَ " .سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: کچھ لوگ آئے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے ساتھی کے بارے میں دریافت کیا کہ وہ اسے داغ لگوانا چاہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے انہوں نے تین مرتبہ اس بارے میں دریافت کیا، لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پسند نہیں کیا۔