صحیح ابن حبان
كتاب الرؤيا— کتاب: خواب کے احکام و مسائل
ذكر البيان بأن من تعوذ بالله من الشيطان عند رؤيته ما يكره في منامه لم يضره ذلك- باب: - ذکر بیان کہ جو اللہ سے شیطان سے پناہ مانگتا ہے جب وہ خواب میں ناپسندیدہ چیز دیکھتا ہے، اسے وہ نقصان نہیں پہنچاتی
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بِنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا قَتَادَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " الرُّؤْيَا مِنَ اللَّهِ ، وَالْحُلْمُ مِنَ الشَّيْطَانِ ، فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمُ الشَّيْءَ يَكْرَهُهُ ، فَلْيَنْفُثْ عَنْ يَسَارِهِ ثَلاثَ مَرَّاتٍ إِذَا اسْتَيْقَظَ ، وَلْيَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّهَا ، فَإِنَّهَا لَنْ تَضُرَّهُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ " ، قَالَ أَبُو سَلَمَةَ : إِنْ كُنْتُ لأَرَى الرُّؤْيَا هِيَ أَثْقَلُ عَلَيَّ مِنَ الْجَبَلِ ، فَلَمَّا سَمِعْتُ هَذَا الْحَدِيثَ مَا كُنْتُ أُبَالِيهَا .سیدنا ابوقتادہ علی بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ” خواب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتے ہیں اور برے خواب شیطان کی طرف سے ہوتے ہیں، تو جب کوئی شخص ایسی چیز دیکھے جو اسے پسند نہ آئے، تو جب وہ بیدار ہو، تو اسے اپنی بائیں طرف تین مرتبہ تھوک دینا چاہئے اور اس خواب کے شر سے اللہ کی پناہ مانگنی چاہیئے اگر اللہ نے چاہا، تو وہ خواب اسے کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا۔ “ ابوسلمہ نامی راوی بیان کرتے ہیں: میں بعض اوقات ایسے خواب دیکھا کرتا تھا جو میرے لیے پہاڑ سے زیادہ وزنی ہوتے تھے، لیکن جب میں نے یہ حدیث سنی، تو میں ان کی کوئی پرواہ نہیں کرتا۔