صحیح ابن حبان
كتاب الفرائض— کتاب: فرائض (وراثت) کے احکام و مسائل
باب ذوي الأرحام - ذكر السبب الذي من أجله فعل المصطفى صلى الله عليه وسلم ما وصفناه- باب: قرابت داروں کے احکام کا بیان - ذکر وجہ جس کی بنا پر مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے بیان کردہ فعل کیا
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي بُرَيْدَةَ ، يَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُنَا ، إِذْ جَاءَ الْحَسَنُ ، وَالْحُسَيْنُ ، عَلَيْهِمَا قَمِيصَانِ أَحْمَرَانِ يَمْشِيَانِ ، وَيَعْثُرَانِ ، فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمِنْبَرِ ، فَحَمَلَهُمَا ، فَوَضَعَهُمَا بَيْنَ يَدَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : " صَدَقَ اللَّهُ : إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلادُكُمْ فِتْنَةٌ سورة التغابن آية 15 " ، نَظَرْتُ إِلَى هَذَيْنِ الصَّبِيَّيْنِ يَمْشِيَانِ وَيَعْثُرَانِ ، فَلَمْ أَصْبِرْ ، حَتَّى قَطَعْتُ حَدِيثِي فَرَفَعَتْهُمَا .سیدنا ابوبریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں خطبہ دے رہے تھے اسی دوران سیدنا امام حسن اور سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہما (جو بچے تھے) وہ آ گئے انہوں نے سرخ قمیصیں پہنی ہوئی تھیں وہ چلتے تھے اور چلتے ہوئے گر پڑتے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے نیچے اتر آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو اٹھایا اور اپنے آگے بٹھا لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا ہے۔ ” بے شک تمہارے اموال اور تمہاری اولاد آزمائش ہے۔ “ میں نے ان دو بچوں کو دیکھا کہ یہ چلتے ہوئے آ رہے ہیں اور گر پڑتے ہیں، تو مجھ سے صبر نہیں ہوا، یہاں تک کہ میں نے اپنی گفتگو منقطع کر کے انہیں اٹھا لیا۔