صحیح ابن حبان
كتاب الوصية— کتاب: وصیت کے احکام و مسائل
ذكر ما يجب على المرء من إعداد الوصية لنفسه في حياته وترك الاتكال على غيره فيها- باب: - ذکر کہ انسان پر لازم ہے کہ وہ اپنی زندگی میں وصیت تیار کرے اور اس میں دوسروں پر انحصار نہ کرے
حدیث نمبر: 6024
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أن رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا حَقُّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَهُ شَيْءٌ يُوصِي فِيهِ يَبِيتُ لَيْلَتَيْنِ إِلا وَوَصِيَّتُهُ مَكْتُوبَةٌ عِنْدَهُ " .سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس مسلمان کے پاس کوئی ایسی چیز موجود ہو، جس کے بارے میں وہ وصیت کر سکتا ہو، تو اسے اس بات کا حق حاصل نہیں ہے دو راتیں گزر جائیں (اور اس نے وصیت نہ کی ہو) اس کی وصیت اس کے پاس لکھی ہونی چاہئے۔