صحیح ابن حبان
كتاب الديات— کتاب: دیت (خون بہا) کے احکام و مسائل
باب الغرة - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن الغرة في الجنين الساقط لا يجب على الضارب إلا عبد أو أمة- باب: «غُرَّہ» (یعنی حمل ضائع ہونے پر دیت) کا بیان - ذکر خبر جو اس دعوے کو رد کرتی ہے کہ گرے ہوئے جنين کی غرة میں ضارب پر صرف غلام یا باندی لازم ہے
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْجَنِينِ بِغُرَّةِ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ ، أَوْ فَرَسٍ ، أَوْ بَغْلٍ " ، فَقَالَ الَّذِي قَضَى عَلَيْهِ : أَنَعْقِلُ مَنْ لا أَكَلْ ، وَلا شَرِبَ وَلا صَاحَ وَلا اسْتَهَلَّ ، مِثْلُ ذَلِكَ يُطَلُّ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ هَذَا لَيَقُولُ بِقَوْلِ شَاعِرٍ ، فِيهِ غُرَّةٌ : عَبْدٌ ، أَوْ أَمَةٌ ، أَوْ فَرَسٌ ، أَوْ بَغْلٌ " .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیٹ میں موجود بچے کے بارے میں تاوان کے طور پر ایک غلام یا کنیز یا گھوڑا یا خچر دینے کا فیصلہ دیا تھا جس شخص کے خلاف آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ دیا تھا اس نے عرض کی: کیا ہم اس کی دیت ادا کریں، جس نے کچھ کھایا نہیں کچھ پیا نہیں وہ چیخا نہیں چیخ کر رویا نہیں اس طرح کا خون تو رائیگاں جاتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ شاعروں کی طرح کی گفتگو کر رہا ہے ایسی صورت حال میں تاوان کے طور پر غلام یا کنیز یا گھوڑا یا خچر ادا کرنا ہو گا۔