صحیح ابن حبان
كتاب الجنايات— کتاب: جرائم (جنايات) کے احکام و مسائل
باب الجنايات - ذكر الإخبار عن تحريم الله جل وعلا دماء المؤمنين- باب: جرائم (گناہوں اور ظلم و تعدّی) کا بیان - ذکر خبر کہ اللہ جل وعلا نے مومنوں کے خون کو حرام کیا ہے
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلالٍ ، قَالَ : أَتَانِي أَبُو الْعَالِيَةِ وَصَاحِبٌ لِي ، فَقَالَ : هَلُمَّا ، فَإِنَّكُمَا أَشَبُّ شَبَابًا ، وَأَوْعَى لِلْحَدِيثِ مِنِّي ، فَانْطَلَقْنَا حَتَّى أَتَيْنَا بِشْرَ بْنَ عَاصِمٍ اللَّيْثِيَّ ، قَالَ أَبُو الْعَالِيَةِ حَدِّثْ هَذَيْنِ ، قَالَ بِشْرٌ ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مَالِكٍ وَكَانَ مِنْ رَهْطِهِ ، قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً ، فَغَارَتْ عَلَى قَوْمٍ ، فَشَذَّ مِنَ الْقَوْمِ رَجُلٌ ، وَاتَّبَعَهُ رَجُلٌ مِنَ السَّرِيَّةِ وَمَعَهُ السَّيْفُ شَاهِرُهُ ، فَقَالَ : إِنِّي مُسْلِمٌ ، فَلَمْ يَنْظُرْ فِيمَا قَالَ ، فَضَرَبَهُ فَقَتَلَهُ ، قَالَ : فَنُمِيَ الْحَدِيثُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ فِيهِ قَوْلا شَدِيدًا ، فَبَلَغَ الْقَاتِلَ ، قَالَ : فَبَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ ، إِذْ قَالَ الْقَاتِلُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَاللَّهِ مَا قَالَ الَّذِي قَالَ إِلا تَعَوُّذًا مِنَ الْقَتْلِ ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَمَّنْ قِبَلَهُ مِنَ النَّاسِ ، وَأَخَذَ فِي خُطْبَتِهِ ، قَالَ : ثُمَّ عَادَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا قَالَ الَّذِي قَالَ إِلا تَعَوُّذًا مِنَ الْقَتْلِ ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَعَمَّنْ قِبَلَهُ مِنَ النَّاسِ ، فَلَمْ يَصْبِرْ أَنْ قَالَ الثَّالِثَةَ ، فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ تُعْرَفُ الْمَسَاءَةُ فِي وَجْهِهِ ، فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَليَّ أَنْ أَقْتُلَ مُؤْمِنًا " ثَلاثَ مَرَّاتٍ .حمید بن ہلال بیان کرتے ہیں: ابوعالیہ اور میرے ایک ساتھی میرے پاس آئے ان لوگوں نے کہا: تم آؤ تم نوجوان ہو تمہیں مجھ سے زیادہ حدیثیں یاد ہیں ہم لوگ روانہ ہوئے، یہاں تک کہ ہم بشر بن عاصم لیثی کے پاس آئے، تو ابوعالیہ نے کہا: ان دونوں کو حدیث بیان کرو بشر نے یہ بات بیان کی۔ سیدنا عقبہ بن مالک رضی اللہ عنہ نے ہمیں حدیث بیان کی ہے: وہ ان کے قبیلے سے تعلق رکھتے تھے وہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہم روانہ کی انہوں نے ایک قوم پر حملہ کیا ان میں سے ایک شخص ایک طرف ہٹ گیا مہم میں شامل افراد میں سے ایک شخص اس کے پاس گیا اس کے پاس سونتی ہوئی تلوار تھی اس (پہلے الگ ہونے والے شخص نے) کہا: میں مسلمان ہوں، لیکن (پیچھے جانے والے فرد نے) اس کی بات پر توجہ نہیں دی اور اس پر حملہ کر کے اسے قتل کر دیا جب اس بات کی اطلاع نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارے میں سخت ناراضگی کا اظہار کیا اس بات کی اطلاع قتل کرنے والے شخص کو ملی۔ راوی بیان کرتے ہیں: ابھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے، تو اس قاتل نے عرض کی: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! اللہ کی قسم! اس نے یہ کلمہ صرف قتل سے بچنے کے لیے پڑھا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے اور اس کی طرف موجود لوگوں کی طرف سے منہ پھیر لیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبے کو جاری رکھا اس شخص نے دوبارہ یہی بات بیان کی اس نے عرض کی: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! اس نے صرف قتل سے بچنے کے لیے یہ بات کہی تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اس سے اور اس کی طرف موجود لوگوں سے منہ پھیر لیا پھر اس شخص سے صبر نہیں ہوا، یہاں تک کہ اس نے تیسری مرتبہ یہی بات کہی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف متوجہ ہوئے ناراضگی کے آثار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر نمایاں تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے میرے لیے یہ بات حرام قرار دی ہے کہ میں کسی مومن کو قتل کروں یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی۔