صحیح ابن حبان
كتاب الرهن— کتاب: گروی رکھنے کے احکام و مسائل
باب ما جاء في الفتن - ذكر ما يجب على المرء من لزوم خاصة نفسه وإصلاح عمله عند تغيير الأمر ووقوع الفتن- باب: فتنوں کے بارے میں وارد احادیث کا بیان - ذکر کہ انسان پر لازم ہے کہ فتنوں کے وقوع اور حالات کے بدلنے پر اپنی ذات کو سنبھالے اور اپنے عمل کی اصلاح کرے
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنِ الْعَلاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَيْفَ أَنْتَ يَا عَبْدَ اللَّهِ ، إِذَا بَقِيتَ فِي حُثَالَةٍ مِنَ النَّاسِ ؟ " قَالَ : وَذَاكَ مَا هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " ذَاكَ إِذَا مَرَجَتْ أَمَانَاتُهُمْ وَعُهُودُهُمْ ، وَصَارُوا هَكَذَا وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ " ، قَالَ : فَكَيْفَ بِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " تَعْمَلُ مَا تَعْرِفُ ، وَدَعْ مَا تُنْكِرُ ، وَتَعْمَلُ بِخَاصَّةِ نَفْسِكَ ، وَتَدَعُ عَوَامَّ النَّاسِ " .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے عبداللہ اس وقت تمہارا کیا عالم ہو گا جب تم لوگوں کے چھان میں رہ جاؤ گے۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! یہ کون لوگ ہوں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ صورت حال اس وقت پیش آئے گی جب ان کی امانتیں اور ان کے عہد اس طرح ہو جائیں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیاں ایک دوسرے میں داخل کر کے فرمایا۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! اس وقت میں کیا کروں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم وہ کام کرو جسے تم نیکی سمجھتے ہو اور اس بات کو چھوڑ دو جسے تم برا سمجھو اور تم اپنی ذات کے لیے عمل کرو اور لوگوں کو (ان کے حال) پر چھوڑ دو۔