صحیح ابن حبان
كتاب الذبائح— کتاب: ذبیحہ کے احکام و مسائل
ذكر الزجر عن ذبح المرء شيئا من الطيور عبثا دون القصد في الانتفاع به- باب: - ذکر منع کہ انسان کسی پرندے کو عبث ذبح کرے بغیر اس سے نفع اٹھانے کے قصد کے
حدیث نمبر: 5894
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ الْحَدَّادُ ، عَنْ خَلَفِ بْنِ مِهْرَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَامِرٌ الأَحْوَلُ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ ، قَالَ : سَمِعْتُ الشَّرِيدَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ قَتَلَ عُصْفُورًا عَبَثًا عَجَّ إِلَى اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَقُولُ : يَا رَبِّ ، إِنَّ فُلانًا قَتَلَنِي عَبَثًا ، وَلَمْ يَقْتُلْنِي مَنْفَعَةً " .سیدنا عمرو بن شرید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ” جو شخص بلاوجہ کسی چڑیا کو مار دیتا ہے، تو وہ چڑیا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں فریاد کرے گی اے میرے پروردگار فلاں شخص نے مجھے بلاوجہ مار دیا تھا اس نے کسی فائدے کے لیے مجھے نہیں مارا تھا۔ “