صحیح ابن حبان
كتاب الذبائح— کتاب: ذبیحہ کے احکام و مسائل
ذكر الزجر عن استعمال المسلم ذبائح الرجبية وأول النتاج الذي كان يذبحهما أهل الجاهلية- باب: - ذکر منع کہ مسلمان جاہلیت کے لوگوں کے رجبیہ اور پہلے نتاج کے ذبیحوں کو استعمال کرے
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى بِعَسْكَرِ مُكْرَمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ وَكِيعِ بْنِ عُدُسٍ ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي رَزِينٍ ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " إِنَّا كُنَّا نَذْبَحُ ذَبَائِحَ فَنَأْكُلُ مِنْهَا ، وَنُطْعِمُ مَنْ جَاءَنَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا بَأْسَ بِذَلِكَ " . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : هَذِهِ الذَّبَائِحُ الَّتِي أَبَاحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا كَانَ يَفْعَلُهُ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ إِنَّمَا هِيَ غَيْرُ الْفَرَعِ ، وَالْعَتِيرَةِ الْمَنْهِيِّ عَنْهُمَا فِي الإِسْلامِ .سیدنا ابورزین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا انہوں نے عرض کی: ہم اپنے جانور کو ذبح کرتے ہیں پھر اس میں سے کھا لیتے ہیں اور جو ہمارے پاس آتا ہے اسے کھلا دیتے ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ وہ ذبائح ہیں، جنہیں زمانہ جاہلیت کے لوگ کیا کرتے تھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مباح قرار دیا ہے لیکن فرع اور عتیرہ کے علاوہ ہے جن سے اسلام میں منع کیا گیا ہے۔