حدیث نمبر: 5891
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى بِعَسْكَرِ مُكْرَمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ وَكِيعِ بْنِ عُدُسٍ ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي رَزِينٍ ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " إِنَّا كُنَّا نَذْبَحُ ذَبَائِحَ فَنَأْكُلُ مِنْهَا ، وَنُطْعِمُ مَنْ جَاءَنَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا بَأْسَ بِذَلِكَ " . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : هَذِهِ الذَّبَائِحُ الَّتِي أَبَاحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا كَانَ يَفْعَلُهُ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ إِنَّمَا هِيَ غَيْرُ الْفَرَعِ ، وَالْعَتِيرَةِ الْمَنْهِيِّ عَنْهُمَا فِي الإِسْلامِ .

سیدنا ابورزین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا انہوں نے عرض کی: ہم اپنے جانور کو ذبح کرتے ہیں پھر اس میں سے کھا لیتے ہیں اور جو ہمارے پاس آتا ہے اسے کھلا دیتے ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ وہ ذبائح ہیں، جنہیں زمانہ جاہلیت کے لوگ کیا کرتے تھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مباح قرار دیا ہے لیکن فرع اور عتیرہ کے علاوہ ہے جن سے اسلام میں منع کیا گیا ہے۔

حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الذبائح / حدیث: 5891
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح لغيره - «الإرواء» (4/ 412 - 413). * [نَذْبَحُ ذَبَائِحَ] قال الشيخ: زاد النسائي في كتاب «الفرع والعتيرة»: في الجاهلية في رجب. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 5861»