صحیح ابن حبان
كتاب الإسراء— کتاب: معراج کے احکام و مسائل
ذكر الخبر الدال على صحة ما ذكرناه- باب: - اس خبر کا ذکر جو ہمارے بیان کردہ موقف کی صحت پر دلالت کرتی ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعَاذْ بْنُ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ الْعُقَيْلِيِّ ، قَالَ : قُلْتُ لأَبِي ذَرٍّ : لَوْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَسَأَلْتُهُ عَنْ كُلِّ شَيْءٍ ، فَقَالَ : عَنْ أَيِّ شَيْءٍ كُنْتَ تَسْأَلُهُ ؟ قَالَ : كُنْتُ أَسْأَلُهُ : هَلْ رَأَيْتَ رَبَّكَ ؟ فَقَالَ : سَأَلْتُهُ ، فَقَالَ : " رَأَيْتُ نُورًا " قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : مَعْنَاهُ أَنَّهُ لَمْ يَرَ رَبَّهُ ، وَلَكِنْ رَأَى نُورًا عُلْوِيًّا مِنَ الأَنْوَارِ الْمَخْلُوقَةِ .عبدالله بن شقیق عقیلی بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے کہا: اگر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کرتا تو آپ سے ہر چیز کے بارے میں دریافت کرتا، تو انہوں نے دریافت کیا: تم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی چیز کے بارے میں دریافت کرنا تھا؟ تو عبداللہ نے کہا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ دریافت کرنا تھا کہ کیا آپ نے اپنے پروردگار کو دیکھا ہے؟ تو سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال کیا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا میں نے ایک نور کو دیکھا ہے۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس سے مراد یہ ہے کہ آپ نے اپنے پروردگار کو نہیں دیکھا بلکہ آپ نے وہ انوار جو مخلوق ہیں، ان میں سے ” علوی نور “ (یعنی جو مخلوقات سے بلند تر انوار ہیں) اسے دیکھا۔