صحیح ابن حبان
كتاب الأشربة— کتاب: مشروبات کے احکام و مسائل
فصل في الأشربة - ذكر البيان بأن المصطفى صلى الله عليه وسلم أباح لهم ذلك- باب: پانیوں (مشروبات) کے بیان میں ایک فصل - یہ بیان کہ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر اجازت دی
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : مَاتَتْ شَاةٌ لِسَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَاتَتْ فُلانَةُ ، تَعْنِي الشَّاةَ ، قَالَ : " فَهَلا أَخَذْتُمْ مَسْكَهَا ، فَقَالَتْ : نَأْخُذُ مَسْكَ شَاةٍ قَدْ مَاتَتْ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّمَا قَالَ : قُلْ لا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَى طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ إِلا أَنْ يَكُونَ مَيْتَةً أَوْ دَمًا مَسْفُوحًا سورة الأنعام آية 145 ، لا بَأْسَ أَنْ تَدْبُغُوهُ ، تَنْتَفِعُونَ بِهِ " ، قَالَتْ : فَأَرْسَلْنَا إِلَيْهَا ، فَسَلَخَتْ مَسْكَهَا ، فَاتَّخَذَتْ مِنْهُ قِرْبَةً حَتَّى تَخَرَّقَتْ .سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا کی بکری مر گئی۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) فلاں مر گئی ہے۔ ان کی مراد بکری تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے اس کی کھال کو حاصل کیوں نہیں کیا۔ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: کیا ہم ایسی بکری کی کھال حاصل کریں جو مر چکی ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: ” تم یہ فرما دو جو چیز میری طرف وحی کی گئی ہے اس میں، میں کوئی ایسی چیز نہیں پاتا جو کھانے والے کے لئے حرام قرار دی گئی ہو ماسوائے اس کے جو مردار ہو یا بہا ہوا خون ہو۔ “
(پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) اس میں کوئی حرج نہیں ہے تم اس کی دباغت کر کے اس سے فائدہ حاصل کرو۔ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، تو ہم نے اس کو بھجوایا اور اس کی کھال کی دباغت کر لی گئی پھر ہم نے اس کے ذریعے مشکیزہ بنا لیا یہاں تک کہ اس میں سوراخ ہو گیا۔