صحیح ابن حبان
كتاب الأشربة— کتاب: مشروبات کے احکام و مسائل
فصل في الأشربة - ذكر الإباحة للمرء شرب الشرابين إذا مزج بعضهما ببعض- باب: پانیوں (مشروبات) کے بیان میں ایک فصل - یہ بیان کہ اگر دونوں نبیذ ملائے جائیں تو پینا جائز ہے
أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ الْبَلْخِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ فُلَيْحِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلاً مِنَ الأَنْصَارِ إِلَى جَانِبِهِ مَاءٌ فِي رَكِيٍّ ، فَقَالَ : " أَعِنْدَكُمْ مَاءٌ بَاتَ فِي شَنٍّ ، وَإِلا كَرَعْنَا فِي هَذَا " ، فَأُتِيَ بِمَاءٍ ، وَحُلِبَ لَهُ عَلَيْهِ ، فَشَرِبَ ، ثُمَّ قَالَ لِي إِسْمَاعِيلُ : هُنَاكَ فُلَيْحٌ ، اذْهَبْ فَاسْمَعْهُ مِنْهُ ، فَلَقِيتُ فُلَيْحًا ، فَسَأَلْتُهُ عَنْهُ ، فَحَدَّثَنِي بِهِ ، كَمَا حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : إِسْمَاعِيلُ هَذَا : هُوَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، لَمْ يَذْكُرْهُ فِي كِتَابِنَا هَذَا فِي هَذَا الْمَوْضِعِ احْتِجَاجًا مِنَّا بِهِ ، وَاعْتِمَادُنَا فِي هَذَا الْخَبَرِ عَلَى مَنْصُورِ بْنِ أَبِي مُزَاحِمٍ ؛ لأَنَّهُ سَمِعَهُ مِنْ فُلَيْحٍ ، وَإِسْمَاعِيلَ قَدْ ذَكَرْنَا السَّبَبَ فِي تَرْكِهِ فِي كِتَابِ الْمَجْرُوحِينَ .سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انصاری شخص کو بلایا جس کے پہلو میں پانی کا مشکیزہ تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا تمہارے پاس ایسا پانی ہے جو رات سے مشکیزے میں رہا ہو ورنہ ہم (اس بہتے ہوئے پانی میں سے) پی لیتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پانی پیش کیا گیا جس میں دودھ ملایا گیا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پی لیا۔ منصور نامی راوی کہتے ہیں: اس کے بعد اسماعیل نامی راوی نے مجھ سے کہا: فلیح نامی راوی یہاں آئے ہوئے ہیں۔ تم جا کر ان سے یہ حدیث سن لو منصور کہتے ہیں تو میری ملاقات فلیح سے ہوئی۔ میں نے ان سے اس حدیث کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے بھی یہ حدیث اسی طرح سنائی جس طرح اسماعیل نے سنائی تھی۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اسماعیل نامی راوی اسماعیل بن عیاش ہیں۔ ہم نے اپنی کتاب میں صرف اس جگہ ذکر کیا ہے تاکہ اس کے ذریعے استدلال کیا جائے ورنہ اس روایت میں ہمارا اعتماد منصور بن ابومزاحم نامی راوی پر ہے کیونکہ انہوں نے اس حدیث کو فلیح اور اسماعیل دونوں سے سنا ہے اور ہم نے اسماعیل کو متروک قرار دینے کی وجہ کتاب المجروحین میں بیان کر دی ہے۔