صحیح ابن حبان
كتاب الأشربة— کتاب: مشروبات کے احکام و مسائل
فصل في الأشربة - ذكر السكر الذي إذا تولد من الشراب الكثير حرم شرب قليله- باب: پانیوں (مشروبات) کے بیان میں ایک فصل - یہ بیان کہ زیادہ شراب سے پیدا ہونے والا نشہ، تھوڑا پینا بھی حرام کر دیتا ہے
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، سَمِعَهُ مِنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ ، وَمُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ ، إِلَى الْيَمَنِ ، فَقَالَ لَهُمَا : " بَشِّرَا وَيَسِّرَا ، وَعَلِّمَا وَلا تُنَفِّرَا ، وَتَطَاوَعَا " ، فَلَمَّا وَلَّى مُعَاذٌ ، رَجَعَ أَبُو مُوسَى ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ لَهُمْ شَرَابًا مِنَ الْعِنَبِ يُطْبَخُ حَتَّى يَعْقِدَ ، وَالْمِزْرُ يُصْنَعُ مِنَ الشَّعِيرِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلُّ مَا أَسْكَرَ عَنِ الصَّلاةِ فَهُوَ حَرَامٌ " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : غَرِيبٌ غَرِيبٌ .سعید بن بردہ اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اور سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجا۔ آپ نے ان دونوں حضرات سے فرمایا تم دونوں خوشخبری سنانا اور آسانی فراہم کرنا تم دونوں تعلیم دینا اور متنفر کرنے کی کوشش نہ کرنا اور تم ایک دوسرے کے ساتھ رہنا جب سیدنا معاذ مڑ کر چلے گئے تو سیدنا ابوموسیٰ اشعری واپس آئے۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ وہاں انگور سے ایک شراب بنائی جاتی ہے جسے پکا لیا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ پختہ ہو جاتی ہے اور مزر ہے جسے جو سے بنایا جاتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہر وہ چیز جو نماز سے نشہ کر دے وہ حرام ہے۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ روایت غریب غریب (یعنی انتہائی زیادہ غریب) ہے۔