صحیح ابن حبان
كتاب الأشربة— کتاب: مشروبات کے احکام و مسائل
باب آداب الشرب - ذكر الزجر عن الشرب في أواني الذهب والفضة لمن يأمل الشرب منهما في الجنان- باب: پینے کے آداب کا بیان - یہ منع کہ سونے اور چاندی کے برتن سے نہ پیا جائے اگر امید ہو کہ جنت میں بھی پیا جائے گا
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي فَرْوَةَ الْجُهَنِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُكَيْمٍ ، قَالَ : اسْتَسْقَى حُذَيْفَةُ مِنْ دِهْقَانٍ بِالْمَدَائِنِ ، فَأَتَاهُ بِشَرَابٍ فِي إِنَاءٍ مِنْ فِضَّةٍ ، فَحَذَفَهُ بِهَا ، فَهِبْنَا حُذَيْفَةَ أَنْ نُكَلِّمَهُ ، فَلَمَّا سَكَنَ الْغَضَبُ عَنْهُ ، قَالَ : أَعْتَذِرُ إِلَيْكُمْ مِنْ هَذَا ، إِنِّي كُنْتُ تَقَدَّمْتُ إِلَيْهِ أَنْ لا يَسْقِيَنِي فِي هَذَا ، ثُمَّ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فِينَا خَطِيبًا ، قَالَ : " لا تَشْرَبُوا فِي إِنَاءِ الْفِضَّةِ وَلا الذَّهَبِ ، وَلا تَلْبَسُوا الْحَرِيرَ وَالدِّيبَاجَ ، فَإِنَّهُ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا وَلَكُمْ فِي الآخِرَةِ " ، قَالَ سُفْيَانُ : كَانَ حَدَّثَنَا بِهِ أَوَّلاً ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، ثُمَّ سَمِعْتُهُ مِنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، ثُمَّ سَمِعْتُهُ مِنْ أَبِي فَرْوَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُكَيْمِ ، قَالَ سُفْيَانُ : وَلا أَظُنُّ ابْنَ أَبِي لَيْلَى سَمِعَهُ إِلا مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُكَيْمِ ؛ لأَنَّهُ قَدْ أَدْرَكَ الْجَاهِلِيَّةَ .عبداللہ بن عکیم بیان کرتے ہیں: سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے مدائن میں ایک کسان سے پانی مانگا تو وہ چاندی کے بنے ہوئے برتن میں پانی لے کر ان کے پاس آیا۔ انہوں نے اسے پھینک دیا۔ ہم نے ہیبت کی وجہ سے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے اس بارے میں کوئی بات نہیں کی جب ان کا غصہ ٹھنڈا ہوا تو انہوں نے فرمایا: میں تمہارے سامنے اس کا عذر بیان کرتا ہوں۔ میں اس سے پہلے اسے یہ ہدایت کر چکا ہوں کہ اس طرح کے برتن میں مجھے پینے کے لئے نہ دے پھر انہوں نے بتایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے آپ نے ارشاد فرمایا: چاندی اور سونے کے برتنوں میں نہ پیو حریر اور دیباج نہ پہنو کیونکہ یہ ان (کفار) کے لئے دنیا میں ہیں اور تمہارے لئے آخرت میں ہوں گے۔
سفیان نامی راوی کہتے ہیں: یہ روایت ابن ابونجیح نے مجاہد کے حوالے سے ابن ابولیلیٰ کے حوالے سے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے ہمیں بیان کی تھی، پھر میں نے انہیں یزید بن ابوزیاد کے حوالے سے ابن ابولیلی کے حوالے سے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے اسے بیان کرتے ہوئے سنا پھر میں نے اسے ابوفروہ کہتے ہیں میں نے عبداللہ بن عکیم کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا۔ سفیان یہ کہتے ہیں: میرا یہ خیال ہے ابن ابولیلی نے بھی یہ روایت عبداللہ بن عکیم سے سنی ہو گی کیونکہ انہوں نے زمانہ جاہلیت پایا ہے۔