صحیح ابن حبان
كتاب الشفعة— کتاب: حقِ شراکت میں خرید کے احکام و مسائل
ذكر خبر ثان يصرح بصحة ما ذكرنا معنى قوله صلى الله عليه وسلم الجار أحق بسقبه- باب: - یہ دوسری خبر جو اس بات کی تصدیق کرتی ہے جو ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان "الجار أحق بسقبه" کے معنی میں ذکر کی۔
حدیث نمبر: 5186
أَخْبَرَنَا الْقَطَّانُ بِالرَّقَّةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الشُّفْعَةِ فِي كُلِّ مَا لَمْ يُقْسَمْ ، فَإِذَا وَقَعَتِ الْحُدُودُ وَصُرِفَتِ الطُّرُقُ فَلا شُفْعَةَ " .سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شفعہ کے بارے میں یہ فیصلہ دیا ہے یہ ہر اس چیز میں ہوتا ہے، جو تقسیم نہ ہوئی ہو لیکن جب حدود واقع ہو جائیں اور راستے مختلف ہو جائیں، تو پھر شفعہ نہیں رہے گا۔