صحیح ابن حبان
كتاب الشفعة— کتاب: حقِ شراکت میں خرید کے احکام و مسائل
ذكر الزجر عن أن يبيع المرء حائطه قبل أن يعرضه على جاره- باب: - یہ تنبیہ کہ انسان کو اپنا باغ بیچنے سے پہلے اپنے ہمسائے کو پیشکش کیے بغیر فروخت نہیں کرنا چاہیے۔
حدیث نمبر: 5178
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الشُّفْعَةُ فِي كُلِّ رَبْعَةٍ أو حَائِطٍ ، لا يَصْلُحُ لَهُ أَنْ يَبِيعَ حَتَّى يَعْرِضَ عَلَى صَاحِبِهِ ، فَإِنْ شَاءَ أَخَذَ ، وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ " .سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” ہر زمین اور باغ میں شفعہ ہو سکتا ہے اسے اس وقت تک فروخت کرنا درست نہیں ہے جب تک آدمی اپنے ساتھی کو اس بارے میں پیشکش نہ کر دے اگر وہ چاہے تو اسے حاصل کر لے اور اگر چاہئے تو اسے ترک کر دے۔ “