صحیح ابن حبان
كتاب الغصب— کتاب: زبردستی قبضہ کے احکام و مسائل
ذكر البيان بأن الله قد يمهل الظلمة والفساق إلى وقت قضاء أخذهم فإذا أخذهم أخذ بشدة نعوذ بالله منه- باب: - یہ بیان کہ اللہ ظالموں اور فاسقوں کو ایک مقررہ وقت تک مہلت دیتا ہے، پھر جب پکڑتا ہے تو سختی سے پکڑتا ہے — ہم اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔
حدیث نمبر: 5175
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بُرَيْدٌ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ يُمْهِلُ الظَّالِمَ حَتَّى إِذَا أَخَذَهُ لَمْ يَنْفَلِتْ ، ثُمَّ تَلا : وَكَذَلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَى وَهِيَ ظَالِمَةٌ إِنَّ أَخْذَهُ أَلِيمٌ شَدِيدٌ سورة هود آية 102 " .سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” بے شک اللہ تعالیٰ ظالم کو مہلت دیتا رہتا ہے یہاں تک کہ جب وہ اس کی گرفت کرتا ہے تو پھر اسے نہیں چھوڑتا۔ “ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی: ” اسی طرح تمہارے پروردگار کی پکڑ ہوتی ہے جب اس نے اس بستی کی پکڑ کی جو ظالم تھی بے شک اس کی پکڑ درد ناک اور زبردست ہوتی ہے۔ “