صحیح ابن حبان
كتاب الإجارة— کتاب: کرایہ داری کے احکام و مسائل
ذكر العلة التي من أجلها زجر عن هذا الفعل- باب: - یہ وضاحت کہ اس فعل سے ممانعت کی علت کیا ہے۔
حدیث نمبر: 5159
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كَسْبِ الإِمَاءِ مَخَافَةَ أَنْ يَبْغِينَ " .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کنیزوں کی کمائی سے منع کیا ہے۔ اس اندیشے کے تحت کہ وہ کہیں فحاشی کرنا شروع نہ کر دیں۔