صحیح ابن حبان
كتاب الإجارة— کتاب: کرایہ داری کے احکام و مسائل
ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن يحيى بن أبي كثير لم يسمع هذا الخبر من إبراهيم بن عبد الله بن قارظ- باب: - یہ خبر جو اس قول کو باطل کرتی ہے جس نے کہا کہ یحییٰ بن ابی کثیر نے یہ روایت ابراہیم بن عبداللہ بن قارظ سے نہیں سنی۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنِ ابْنِ مُحَيِّصَةَ ، أَنَّ أَبَاهُ اسْتَأْذَنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خَرَاجِ الْحَجَّامِ فَأَبَى أَنْ يَأْذَنَ لَهُ ، فَلَمْ يَزَلْ بِهِ حَتَّى قَالَ : " أَطْعِمْهُ رَقِيقَكَ ، وَأَعْلِفْهُ نَاضِحَكَ " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : تَأَبِّي النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الإِذْنِ فِي خَرَاجِ الْحَجَّامِ فِيهِ شَرْطٌ مُضْمَرٌ ، وَهُوَ أَنْ يُشَارِطَ الْحَجَّامَ فِي حَجْمِهِ عَلَى إِخْرَاجِ شَيْءٍ مِنَ الدَّمِ مَعْلُومٍ ، فَلِعَدَمِ قُدْرَتِهِ عَلَى إِيجَادِ هَذَا الشَّرْطِ كَرِهَ أَنْ يَأْذَنَ لَهُ فِي كَسْبِهِ ، ثُمَّ قَالَ : أَطْعِمْهُ رَقِيقَكَ ، وَأَعْلِفُهُ نَاضِحَكَ ، وَلَوْ كَانَ كَسْبُ الْحَجَّامِ مَنْهِيًّا عَنْهُ لَمْ يَأْمُرْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِطْعَامَ الْمَرْءِ رَقِيقَهُ مِنْهُ ، إِذِ الرَّقِيقُ مُتَعَبَّدُونَ ، وَمِنَ الْمُحَالِ أَنْ يَأْمُرَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُسْلِمَ بِإِطْعَامِ رَقِيقِهِ حَرَامًا .ابن محیصہ بیان کرتے ہیں: ان کے والد نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پچھنے لگانے کے خراج (معاوضے) کے بارے میں اجازت مانگی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں مسلسل بات چیت کرتے رہے یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم (اس کی آمدن کو) اپنے غلام کو کھلا دو یا اپنے اونٹ کو چارہ کھلا دو۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنے لگانے کے معاوضے کے بارے میں اجازت دینے سے اس لئے انکار کیا تھا جس میں یہ شرط پوشیدہ ہے پچھنے لگانے والے شخص نے پچھنے لگانے میں اس بات کی شرط عائد کی تھی کہ وہ متعین مقدار میں خون باہر نکالے گا، تو کیونکہ وہ اس شرط کو پوری کرنے کی قدرت نہیں رکھتا۔ اس لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کو ناپسند کیا کہ وہ اس کی آمدن کے بارے میں اجازت دیں پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اسے اپنے غلام کو کھلا دو یا اپنے اونٹ کو چارے کے طور پر کھلا دو تو اگر پچھنے لگانے کی آمدن مکمل طور پر منع ہوتی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غلام کو اس میں سے کھلانے کی اجازت نہ دیتے؟ کیونکہ غلام بھی عبادت گزار ہوتے ہیں اور یہ بات ناممکن ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی مسلمان کو اپنے غلام کو کوئی حرام چیز کھلانے کا حکم دیں۔