صحیح ابن حبان
كتاب الهبة— کتاب: تحفہ و عطیہ کے احکام و مسائل
ذكر جواز قبول المرء الذي لا يحل له أخذ الصدقة الهدية ممن تصدق عليه بتلك الهدية- باب: - اس بات کا بیان کہ جس شخص کے لیے صدقہ لینا حلال نہیں، وہ اس چیز کو بطور ہدیہ قبول کر سکتا ہے جو اسے کسی نے صدقہ میں دی ہو۔
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُجَيْرٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا تَمِيمُ بْنُ الْمُنْتَصِرِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الأَزْرَقُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : اشْتَرَتْ عَائِشَةُ بَرِيرَةَ مِنَ الأَنْصَارِ لِتُعْتِقَهَا ، وَاشْتَرَطُوا عَلَيْهَا أَنْ تَجْعَلَ لَهُمْ وَلاءَهَا ، فَشَرَطَتْ ذَلِكَ ، فَلَمَّا جَاءَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ بِذَلِكَ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا الْوَلاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ " ، ثُمَّ صَعِدَ الْمِنْبَرَ ، فَقَالَ : " مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ " . وَكَانَ " لِبَرِيرَةَ زَوْجٌ ، فَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ شَاءَتْ أَنْ تَمْكُثَ مَعَ زَوْجِهَا كَمَا هِيَ ، وَإِنْ شَاءَتْ فَارَقَتْهُ فَفَارَقَتْهُ " . وَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ وَفِيهِ رِجْلُ شَاةٍ أَوْ يَدٍ ، وَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ وَفِيهِ رِجْلُ شَاةٍ أَوْ يَدٍ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَائِشَةَ : " أَلا تَطْبُخُونَ لَنَا هَذَا اللَّحْمَ " ، فَقَالَتْ : تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ ، فَأَهْدَتْهُ لَنَا ، فَقَالَ : " اطْبُخُوا ، فَهُوَ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ ، وَلَنَا هَدِيَّةٌ " .سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بریرہ کو انصار سے خرید کر آزاد کرنے کا ارادہ کیا تو اس کے مالکان نے یہ شرط عائد کی کہ اس کی ولاء کا حق ان کے پاس رہے گا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ شرط تسلیم کر لی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ کو اس بارے میں بتایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ولاء کا حق آزاد کرنے والے کو ملتا ہے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھے۔ آپ نے ارشاد فرمایا: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے وہ ایسی شرط عائد کرتے ہیں جن کی اجازت اللہ کی کتاب میں نہیں ہے۔ (سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں) بریرہ کا شوہر بھی تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کو اس بات کا اختیار دیا کہ وہ چاہے تو اپنے شوہر کے ساتھ رہے جیسے پہلے رہ رہی تھی اور اگر چاہے تو اس سے علیحدگی اختیار کرے تو اس خاتون نے اس سے علیحدگی اختیار کر لی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں تشریف لائے تو وہاں ایک بکری کا پایہ یا دستی تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کیا تم لوگوں نے یہ گوشت نہیں پکایا۔ انہوں نے عرض کی: یہ تو بریرہ کو صدقے کے طور پر دیا گیا تھا وہ اس نے ہمیں تحفے کے طور پر دے دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم اسے پکاؤ کیونکہ یہ اس کے لئے صدقہ تھا اور ہمارے لئے تحفہ ہے۔