صحیح ابن حبان
كتاب الهبة— کتاب: تحفہ و عطیہ کے احکام و مسائل
ذكر ما يجب على المرء من قبول ما يهدي أخوه المسلم إياه إذا تعرى عن علتين فيه- باب: - اس بات کا بیان کہ مسلمان کو چاہیے کہ جب اس کا بھائی اسے ہدیہ دے اور اس میں کوئی ممنوع علت نہ ہو تو وہ اسے قبول کرے۔
حدیث نمبر: 5108
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بِبُسْتَ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى بْنِ خَتٍّ ، حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، حَدَّثَنِي أَبُو الأَسْوَدِ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأشجِّ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَدِيٍّ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ بَلَغَهُ مَعْرُوفٌ عَنْ أَخِيهِ مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ وَلا إِشْرَافِ نَفْسٍ ، فَلْيَقْبَلْهُ وَلا يَرُدَّهُ " .سیدنا خالد بن زید جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ” جس شخص کو اپنے بھائی کی طرف سے مانگے بغیر اور لالچ کے بغیر کوئی بھلائی (یعنی مال و دولت وغیرہ) ملے اسے اس کو قبول کر لینا چاہئے اسے وہ واپس نہیں کرنا چاہئے۔ “