صحیح ابن حبان
كتاب الشهادات— کتاب: شہادتوں کے احکام و مسائل
ذكر استحباب إعلام الشاهد المشهود له ما عنده من الشهادة إذا جهل عليها- باب: رشوت کا بیان - اس بات کا بیان کہ مستحب ہے کہ گواہ، اگر مدعی کو گواہی کے بارے میں علم نہ ہو، تو اسے اپنی گواہی سے آگاہ کرے۔
حدیث نمبر: 5079
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي عَمْرَةَ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَلا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ الشُّهَدَاءِ ، الَّذِي يَأْتِي بِشَهَادَتِهِ أَوْ يُحَدِّثُهَا قَبْلَ أَنْ يُسْأَلَهَا " .سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” میں تمہیں سب سے بہترین گواہوں کے بارے میں نہ بتاؤں؟ یہ وہ لوگ ہیں ان سے مطالبہ کرنے سے پہلے ہی یہ اپنی گواہی لے آتے ہیں۔ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) اسے بیان کر دیتے ہیں۔ “