صحیح ابن حبان
كتاب النذور— کتاب: نذروں کے احکام و مسائل
ذكر الإخبار عن نفي جواز وفاء نذر الناذر إذا نذر فيما لا يملك أو كان لله فيه معصية- باب: - ذکر اس خبر کا کہ نذر ماننے والے کے لیے ایسی نذر پوری کرنا جائز نہیں جو اس کے اختیار میں نہ ہو یا جس میں اللہ کی نافرمانی ہو
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى زَحْمُوَيْهِ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، أَنَّ امْرَأَةً مِنَ الْمُسْلِمِينَ سَبَاهَا الْمُشْرِكُونَ ، وَكَانُوا أَصَابُوا نَاقَةً لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ ذَلِكَ ، فَوَجَدَتْ مِنَ الْقَوْمِ غَفَلَةً ، فَنَذَرَتْ إِِنِ اللَّهُ أَنْجَاهَا عَلَيْهَا أَنْ تَنْحَرَهَا ، قَالَ : فَأَنْجَاهَا ، وَقَدِمَتِ الْمَدِينَةَ ، فذهبت لتنحرها فمنعها الناس ، وذكر لرسول الله صلى الله عليه وسلم ، فقال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بِئْسَمَا جَزَيْتِيهَا " ، ثُمَّ قَالَ : " لا وَفَاءَ لابْنِ آدَمَ فِي مَعْصِيَةٍ ، وَلا فِيمَا لا يَمْلِكُ " .سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مسلمان خاتون کو مشرکین نے قیدی بنا لیا ان لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک اونٹنی کو اس سے پہلے پکڑ لیا تھا اس عورت نے ان لوگوں کو غفلت کا شکار دیکھا تو اس نے یہ نذر مانی کہ اگر اللہ تعالیٰ نے اسے اس اونٹنی پر سوار ہو کر نجات عطا کر دی تو وہ اس اونٹنی کو قربان کر دے گی۔ راوی بیان کرتے ہیں: تو اس عورت کو نجات مل گئی وہ مدینہ منورہ آئی اور پھر اس اونٹنی کو قربان کرنے لگی، تو لوگوں نے اسے اس سے روک دیا اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم نے اسے بہت برا بدلہ دیا ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: انسان کے لیے ایسی نذر کو پورا کرنا لازم نہیں ہے، جو گناہ کے بارے میں ہو، یا اس چیز کے بارے میں ہو، جس کا وہ مالک نہیں ہے۔