صحیح ابن حبان
كتاب النذور— کتاب: نذروں کے احکام و مسائل
ذكر إباحة ركوب الناذر المشي إلى بيت الله الحرام جل وعلا- باب: - ذکر اس بات کی اجازت کا کہ نذر ماننے والا جو بیت اللہ الحرام کی طرف پیدل جانے کا ارادہ رکھتا ہو، سواری کر سکتا ہے
حدیث نمبر: 4383
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتِ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : رَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلا يُهَادَى بَيْنَ اثْنَيْنِ فَقَالَ : مَا لَهُ ؟ قَالُوا : نَذَرَ أَنْ يَحُجَّ مَاشِيًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنْ مَشْيِ هَذَا فَلْيَرْكَبْ " .سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا جو دو آدمیوں کے درمیان سہارا لے کر جا رہا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: اس کا کیا معاملہ ہے؟ لوگوں نے بتایا: اس نے پیدل چل کر حج کے لیے جانے کی نذر مانی ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ اس کے پیدل چلنے سے بے نیاز ہے اسے سوار ہو جانا چاہئے۔