صحیح ابن حبان
كتاب النذور— کتاب: نذروں کے احکام و مسائل
ذكر الإباحة للمرء الركوب إذا نذر أن يمشي إلى البيت العتيق- باب: - ذکر اس بات کی اجازت کا کہ اگر انسان نے بیت اللہ کی طرف پیدل جانے کی نذر مانی تو وہ سواری کر سکتا ہے
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، عَنِ الْهِقْلِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْيَمَانِ الْمَدَنِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيِّ ، أَنَّ حُمَيْدًا الطَّوِيلَ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ يُهَادَى بَيْنَ اثْنَيْنِ ، فَسَأَلَ عَنْهُ ، فَقَالُوا : نَذَرَ أَنْ يَمْشِيَ يَعْنِي إِِلَى الْكَعْبَةِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِِنَّ اللَّهَ لِغَنِيٌّ عَنْ تَعْذِيبِ هَذَا نَفْسَهُ ، وَأَمَرَهُ أَنْ يَرْكَبَ " . وَاللَّيْثُ وَالْهِقْلُ وَالأَوْزَاعِيُّ كُلُّهُمْ أَقْرَانٌ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْيَمَانِ وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ وَحُمَيْدٌ أَقْرَانٌ ، رَوَى بَعْضُهُمْ عَنْ بَعْضٍ ، قَالَهُ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللَّهُ .سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک شخص کے پاس سے ہوا جو دو آدمیوں کے درمیان سہارا لے کر چل رہا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں دریافت کیا: تو لوگوں نے بتایا: اس نے یہ نذر مانی ہے وہ پیدل چل کر جائے گا (راوی کہتے ہیں: یعنی خانہ کعبہ تک پیدل چل کر جائے گا) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ اس شخص کے اپنے آپ کو تکلیف دینے سے بے نیاز ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو یہ ہدایت کی کہ وہ سوار ہو جائے۔ لیث، ہقل اور اوزاعی یہ سب ایک ہی زمانے سے تعلق رکھتے ہیں۔ عبدالرحمن بن یمان، یحیی بن سعید اور حمید ایک زمانے سے تعلق رکھتے ہیں انہوں نے ایک دوسرے سے روایات نقل کی ہوئی ہیں یہ بات شیخ نے بیان کی ہے۔