صحیح ابن حبان
كتاب النذور— کتاب: نذروں کے احکام و مسائل
ذكر العلة التي من أجلها زجر عن النذر- باب: - ذکر اس وجہ کا کہ نذر ماننے سے کیوں منع کیا گیا
حدیث نمبر: 4376
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنِ الْعَلاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا تَنْذِرُوا ، فَإِِنَّ النَّذْرَ لا يَرُدُّ مِنَ الْقَدْرِ شَيْئًا ، وَإِِنَّمَا يُسْتَخْرَجُ بِهِ مِنَ الْبَخِيلِ " .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” تم لوگ نذر نہ مانو، کیونکہ نذر تقدیر کی کسی چیز کو نہیں بدلتی ہے اس کے ذریعے کنجوس سے مال نکلوایا جاتا ہے۔ “