صحیح ابن حبان
كتاب العتق— کتاب: غلام آزاد کرنے کے احکام و مسائل
باب إعتاق الشريك - ذكر إباحة استسعاء العبد في نصيب المعتق لفك رقبته- باب: شریک کے آزاد کرنے کا بیان - غلام کو اجازت ہے کہ وہ شریک کے حصے کی آزادی کے لیے محنت کر کے آزادی حاصل کرے
حدیث نمبر: 4318
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ بِخَبَرٍ غَرِيبٍ ، حَدَّثَنَا إِِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، وَيَحْيَى بْنُ صُبَيْحٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَيُّمَا عَبْدٌ كَانَ بَيْنَ اثْنَيْنِ فَأَعْتَقَ أَحَدُهُمَا نَصِيبَهُ ، فَإِِنْ كَانَ مُوسِرًا قُوِّمَ عَلَيْهِ ، وَإِِنْ كَانَ مُعْسِرًا اسْتُسْعِيَ الْعَبْدُ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ " .سیدنا ابوہریره رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” جو بھی غلام دو آدمیوں کے درمیان مشترکہ ملکیت ہو اور ان میں سے کوئی ایک شخص اپنے حصے کو آزاد کر دے تو اگر وہ خوشحال ہو گا تو اس غلام کی قیمت وہ ادا کرے گا اور اگر وہ تنگ دست ہو گا تو پھر غلام کو تنگی کا شکار کیے بغیر اس سے مزدوری کروائی جائے گی (اور دوسرے شخص کے حصے کی قیمت ادا کر دی جائے گی) “