صحیح ابن حبان
كتاب الرضاع— کتاب: رضاعت کے احکام و مسائل
ذكر البيان بأن قوله صلى الله عليه وسلم العبد والأمة أراد به أحدهما لا كليهما- باب: - اس بات کا بیان کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قول "العبد والأمة" سے مراد ان میں سے ایک ہے، دونوں نہیں
حدیث نمبر: 4231
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ حَجَّاجٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قُلْتَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا يُذْهِبُ عَنِّي مَذِمَّةَ الرَّضَاعِ ؟ قَالَ : " غُرَّةٌ : عَبْدٌ أَوْ أَمَةٌ " .حجاج بن حجاج اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نے عرض کی: میں رضاعت کا معاوضہ کیسے ادا کر سکتا ہوں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پیشانی یعنی غلام یا کنیز کی شکل میں۔