صحیح ابن حبان
المقدمة— مقدمہ کا بیان
باب الاعتصام بالسنة وما يتعلق بها نقلا وأمرا وزجرا- باب: سنت پر مضبوطی سے جمے رہنے اور اس سے متعلق نقل، حکم اور ممانعت کا بیان -
وَقَالَ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " : " إِنَّ مَثَلَ مَا آتَانِي الِلَّهِ مِنَ الْهُدَى وَالْعِلْمِ كَمَثَلِ غَيْثٍ أَصَابَ أَرْضًا ، فَكَانَتْ مِنْهَا طَائِفَةٌ طَيِّبَةٌ قَبْلُتْ ذَلِكَ ، فَأَنْبَتَتِ الْكَلأَ وَالْعُشْبَ الْكَثِيرَ ، وَأَمْسَكَتِ الْمَاءَ ، فَنَفَعَ الِلَّهِ بِهَا النَّاسَ ، فَشَرِبُوا مَنَهَا وَسَقَوْا وَزَرَعُوا ، وَأَصَابَ مِنْهَا طَائِفَةٌ أُخْرَى ، إِنَّمَا هِيَ قِيعَانٌ لا تُمْسِكُ مَاءً ، وَلا تُنْبِتُ كَلأً ، فَذَلِكَ مَثَلُ مَنْ فَقُهَ فِي دِينِ اللَّهِ ، وَنَفَعَهُ مَا بَعَثَنِي الِلَّهِ بِهِ ، فَعَلِمَ وَعَمِلَ ، وَمَثَلُ مَنْ لَمْ يَرْفَعْ بِذَلِكَ رَأْسًا ، وَلَمْ يَقَبْلُ هُدَى اللَّهِ الَّذِي أُرْسِلْتُ بِهِ " .نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات بھی ارشاد فرمائی ہے:اللہ تعالیٰ نے مجھے جو ہدایت اور علم عطا کیا ہے، اس کی مثال بارش کی طرح ہے، جو کسی سرزمین پر ہوتی ہے، تو اس زمین کا کچھ حصہ پاکیزہ ہوتا ہے، وہ اسے قبول کر لیتا ہے، اور بہت زیادہ گھاس پھوس اور چارہ اگا دیتا ہے یا وہ پانی کو روک لیتا ہے، اوراللہ تعالیٰ اس کے ذریعے لوگوں کو نفع دیتا ہے، وہ لوگ اس میں سے خود بھی پیتے ہیں۔ (جانوروں وغیرہ) کو بھی پلاتے ہیں اور کھیتی باڑی بھی کرتے ہیں۔ یہ بارش زمین کے ایک اور حصے پر بھی ہوتی ہے، جو چٹیل میدان ہوتا ہے، وہ پانی کو روک نہیں سکتا اور گھاس اگا نہیں سکتا، تو یہ اس شخص کی مثال ہے، جو اللہ کے دین کا فہم حاصل کر لیتا ہے، اوراللہ تعالیٰ نے مجھے جس چیز کے ساتھ مبعوث کیا ہے۔اللہ تعالیٰ اس شخص کو اس چیز کے ذریعے نفع دے دیتا ہے، وہ شخص علم حاصل کرتا ہے، اور اس پر عمل بھی کرتا ہے، اور یہ اس شخص کی مثال، ہے، جو اس کے لئے سر نہیں اٹھاتا (یعنی اس کی طرف توجہ نہیں کرتا) اوراللہ تعالیٰ کی اس ہدایت کو قبول نہیں کرتا، جس کے ہمراہ مجھے بھیجا گیا ہے ۔“