صحیح ابن حبان
تتمة كتاب الصلاة— کتاب: نماز کی تکمیل کے احکام و مسائل
باب الصلاة في الكعبة - ذكر خبر قد يوهم غير المتبحر في صناعة العلم أنه مضاد لخبر نافع الذي ذكرناه باب: کعبہ کے اندر نماز پڑھنے کا بیان - اس خبر کا ذکر جو علم کی صنعت میں غیر ماہر کو یہ وہم دلاتا ہے کہ یہ نافع کی ہمارے بیان کردہ خبر کے مخالف ہے
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ ، قَالَ : رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ ، دَاخِلَ الْبَيْتِ حَتَّى إِذَا كَانَ بَيْنَ السَّارِيَتَيْنِ صَلَّى أَرْبَعًا ، فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ فَلَمَّا صَلَّى ، قُلْتُ : أَيْنَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : " هَاهُنَا " ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : سَمِعَ هَذَا الْخَبَرَ ابْنُ عُمَرَ عَنْ بِلالٍ ، وَأُسَامَةِ بْنِ زَيْدٍ ، لأَنَّهُمَا كَانَا مَعَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْكَعْبَةِ فَمَرَّةً أَدَّى الْخَبَرَ عَنْ بِلالٍ ، وَمَرَّةً أُخْرَى عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ فَالطَّرِيقَانِ جَمِيعًا مَحْفُوظَانِ .ابوشعثاء بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ وہ خانہ کعبہ کے اندر تشریف لے گئے، یہاں تک کہ جب وہ دو ستونوں کے درمیان پہنچے، تو انہوں نے چار رکعات ادا کیں میں ان کے پاس کھڑا ہو گیا جب انہوں نے نماز ادا کر لی، تو میں نے دریافت کیا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہاں نماز ادا کی تھی؟ انہوں نے جواب دیا: یہاں۔ مجھے سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے یہ بات بتائی ہے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو (یہاں) نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:): سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے یہ روایت سیدنا بلال رضی اللہ عنہ اور سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے سنی ہے کیونکہ خانہ کعبہ میں یہ دونوں حضرات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھے تو ایک مرتبہ انہوں نے یہ روایت سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نقل کر دی اور دوسری مرتبہ یہ روایت سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کے حوالے سے نقل کر دی تو اس کے دونوں طرق محفوظ ہیں۔