صحیح ابن حبان
المقدمة— مقدمہ کا بیان
باب الاعتصام بالسنة وما يتعلق بها نقلا وأمرا وزجرا - ذكر البيان بأن الكذب على المصطفى صلى الله عليه وسلم من أفرى الفرى- باب: سنت پر مضبوطی سے جمے رہنے اور اس سے متعلق نقل، حکم اور ممانعت کا بیان - اس وضاحت کا ذکر کہ نبی کریم ﷺ پر جھوٹ باندھنا سب سے بڑا جھوٹ ہے۔
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الأَسْقَعِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ مِنْ أَعْظَمِ الْفِرْيَةِ ثَلاثًا ، أَنْ يَفْرِيَ الرَّجُلُ عَلَى نَفْسِهِ ، يَقُولُ : رَأَيْتُ ، وَلَمْ يَرَ شَيْئًا فِي الْمَنَامِ ، أَوْ يَتَقَوَّلَ الرَّجُلُ عَلَى وَالِدَيْهِ ، فَيُدْعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ ، أَوْ يَقُولَ : سَمِعَ مِنِّي ، وَلَمْ يَسْمَعْ مِنِّي " .سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: بے شک سب سے بڑا جھوٹ (یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی، پھر فرمایا:) یہ ہے، آدمی اپنی ذات کے بارے میں جھوٹ بولے:۔ وہ یہ کہے کہ میں نے یہ خواب دیکھا ہے، حالانکہ اس نے خواب میں سے کچھ نہ دیکھا ہو یا پھر آدمی اپنے والدین کے بارے میں جھوٹی بات بیان کرے، تاکہ اسے اس کے باپ کی بجائے کسی اور کی طرف منسوب کیا جائے، یا پھر وہ شخص یہ کہے کہ اس نے مجھ سے یہ بات (یعنی حدیث) سنی ہے، حالانکہ اس نے مجھ سے وہ بات نہ سنی ہو ۔“