صحیح ابن حبان
كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا— کتاب: جنازے اور اس سے متعلق امور کے احکام و مسائل
فصل في الشهيد - ذكر الخبر المضاد في الظاهر خبر جابر بن عبد الله الذي ذكرناه باب: شہید کے بیان میں فصل - اس خبر کا ذکر جو ظاہری طور پر جابر بن عبد اللہ کی ہمارے بیان کردہ خبر کے مخالف ہے
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادِ زُغْبَةَ ، فَقَالَ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَزِيدِ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، خَرَجَ يَوْمًا فَصَلَّى عَلَى أَهْلِ أُحُدٍ صَلاتَهُ عَلَى الْمَيِّتِ ، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى الْمِنْبَرِ ، فَقَالَ : " إِنِّي فَرَطٌ لَكُمْ ، وَأَنَا شَهِيدٌ عَلَيْكُمْ ، وَإِنِّي وَاللَّهِ لأَنْظُرُ إِلَى حَوْضِي الآنَ ، وَإِنِّي قَدْ أُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ خَزَائِنِ الأَرْضِ ، أَوْ مَفَاتِيحَ الأَرْضِ ، وَاللَّهِ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تُشْرِكُوا بَعْدِي ، وَلَكِنِّي أَخَافُ أَنْ تَتَنَافَسُوا فِيهَا " .سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہداء احد پر اسی طرح نماز ادا کی جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز جنازہ ادا کرتے تھے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر کی طرف تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں تمہارا پیش رو ہوں میں تمہارا گواہ ہوں اللہ کی قسم! میں اس وقت بھی اپنے حوض کو دیکھ رہا ہوں مجھے زمین کے خزانوں کی چابیاں عطا کی گئی ہیں (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) زمین کی چابیاں عطا کی گئی ہیں اللہ کی قسم! مجھے تمہارے بارے میں یہ اندیشہ نہیں ہے کہ تم لوگ میرے بعد شرک کرو گے، لیکن مجھے یہ اندیشہ ہے کہ تم دنیا کی طرف راغب ہو جاؤ گے۔