صحیح ابن حبان
كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا— کتاب: جنازے اور اس سے متعلق امور کے احکام و مسائل
فصل في زيارة القبور - ذكر خبر قد احتج به من لم يحكم صناعة العلم أن زيارة المسلمين قبور المشركين جائزة باب: قبروں کی زیارت کے بیان میں فصل - اس خبر کا ذکر جس سے علم کی صنعت میں غیر ماہر نے یہ استدلال کیا کہ مسلمانوں کا مشرکین کی قبروں کی زیارت کرنا جائز ہے
حدیث نمبر: 3174
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلادٍ الْبَاهِلِيُّ ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : " أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْرَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيِّ ابْنِ سَلُولٍ ، بَعْدَمَا أُدْخِلَ حُفْرَتَهُ فَأَمَرَ بِهِ فَأُخْرِجَ ، فَوَضَعَهُ عَلَى رُكْبَتِهِ ، وَنَفَثَ عَلَيْهِ مِنْ رِيقِهِ ، وَأَلْبَسَهُ قَمِيصَهُ " وَاللَّهُ أَعْلَمُ .سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عبداللہ بن ابی کی قبر کے پاس تشریف لائے یہ اس کے قبر میں داخل کر دیئے جانے کے بعد کی بات ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت اسے باہر نکالا گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اپنے گھٹنے پر رکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا لعاب دہن اس پر ڈالا اور اسے اپنی قمیض پہنائی، باقی اللہ بہتر جانتا ہے۔