صحیح ابن حبان
كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا— کتاب: جنازے اور اس سے متعلق امور کے احکام و مسائل
فصل في النياحة ونحوها - ذكر الإباحة للنساء أن يبكين موتاهن ما لم يكن ثم نوح باب: نوحہ اور اس جیسی دیگر باتوں کے بیان میں فصل - اس بات کی اجازت کا ذکر کہ عورتیں اپنے مردوں پر رونا جب تک کہ نوحہ نہ ہو
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي وَهْبُ بْنُ كَيْسَانَ ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَمْرٍو ، أَخْبَرَهُ ، أَنَّ سَلَمَةَ بْنَ الأَزْرَقِ ، قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا مَعَ ابْنِ عُمَرَ ، فَأُتِيَ بِجِنَازَةٍ يُبْكَى عَلَيْهَا ، فَعَابَ ذَلِكَ ابْنُ عُمَرَ ، وَانْتَهَرَهُنَّ ، فَقَالَ سَلَمَةُ بْنُ الأَزْرَقِ : أَشْهَدُ عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ : مُرَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجِنَازَةٍ ، وَأَنَا مَعَهُ ، وَمَعَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، وَنِسَاءٌ يَبْكِينَ عَلَيْهَا ، فَزَجَرَهُنَّ ، وَانْتَهَرَهُنَّ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " دَعْهُنَّ يَا عُمَرُ ، فَإِنَّ الْعَيْنَ دَامِعَةٌ ، وَالنَّفْسَ مُصَابَةٌ ، وَالْعَهْدَ قَرِيبٌ " ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ : فَاللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ .سلمہ بن ازرق بیان کرتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا اسی دوران وہاں ایک جنازہ لایا گیا جس پر رویا جا رہا تھا، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس پر اعتراض کیا اور ان خواتین کو جھڑکا۔ سلمہ بن ازرق نے کہا: میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا میں نے انہیں یہ کہتے ہوئے سنا ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گزرا میں اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی تھے خواتین اس میت پر رو رہی تھیں، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں جھڑکا اور انہیں ڈانٹا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عمر! انہیں کرنے دو، کیونکہ آنکھ آنسو بہا رہی ہے، جسم کو تکلیف لاحق ہے اور (افسوس ناک واقعہ) قریب ہی رونما ہوا ہے۔