صحیح ابن حبان
كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا— کتاب: جنازے اور اس سے متعلق امور کے احکام و مسائل
فصل في النياحة ونحوها - ذكر الإسماع لمن تعزى بعزاء الجاهلية عند مصيبة يمتحن بها باب: نوحہ اور اس جیسی دیگر باتوں کے بیان میں فصل - اس بات کا ذکر کہ جو شخص جاہلیت کے تعزیے کے ساتھ تعزیت کرے جب اسے مصیبت سے آزمایا جائے
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلادٍ الْبَاهِلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَوْفٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عُتَيٍّ ، قَالَ : رَأَيْتُ أُبَيًّا رَأَى رَجُلا تَعَزَّى بِعَزَاءِ الْجَاهِلِيَّةِ ، فَأَعَضَّهُ وَلَمْ يَكُنْ ، ثُمَّ قَالَ : قَدْ أَرَى فِي أَنْفُسِكُمْ ، أَوْ فِي نَفْسِكَ ، إِنِّي لَمْ أَسْتَطِعْ إِذَا سَمِعْتُهَا أَنْ لا أَقُولَهَا ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ تَعَزَّى بِعَزَاءِ الْجَاهِلِيَّةِ فَأَعِضُّوهُ وَلا تَكْنُوا " .عتی بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا ابی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے ایک شخص کو زمانہ جاہلیت کے سے انداز میں چیخ و پکار کرتے ہوئے سنا، تو اسے سختی سے روکا، حالانکہ وہ ایسا نہیں کیا کرتے تھے پھر انہوں نے فرمایا: میں یہ سمجھتا ہوں کہ تمہیں اس حوالے سے کچھ الجھن ہوئی ہے، لیکن جب میں نے اسے سنا، تو میں یہ کہنے سے نہیں رک سکا، کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے۔ ” جو شخص زمانہ جاہلیت کی طرح چیخ و پکار کرے، تو تم لوگ اسے سختی سے روکو اور اشارے سے نہ روکو۔ “