حدیث نمبر: 3150
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى الْفُضَيْلِ ، عَنْ أَبِي حَرِيزٍ ، أَنَّ أَبَا بُرْدَةَ حَدَّثَهُ ، أَنَّ أَبَا مُوسَى حِينَ حَضَرَهُ الْمَوْتُ قَالَ " إِذَا انْطَلَقْتُمْ بِجِنَازَتِي ، فَأَسْرِعُوا الْمَشْيَ وَلا تُتْبِعُونِي بِجَمْرٍ ، وَلا تَجْعَلُوا عَلَى لَحْدِي شَيْئًا يَحُولُ بَيْنِي وَبَيْنَ التُّرَابِ ، وَلا تَجْعَلُوا عَلَى قَبْرِي بِنَاءً ، وَأُشْهِدُكُمْ أَنِّي بَرِيءٌ مِنْ كُلِّ حَالِقَةٍ أَوْ سَالِقَةٍ أَوْ خَارِقَةٍ " ، قَالُوا : سَمِعْتَ فِيهِ شَيْئًا ؟ قَالَ : نَعَمْ ، مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .

ابوبرده بیان کرتے ہیں: جب سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کا آخری وقت قریب آیا، تو انہوں نے ارشاد فرمایا: جب تم میرے جنازے کو لے کر چلو، تو اسے تیزی سے لے کر چلنا اور اس کے ساتھ آگ نہ لے جانا اور میری لحد پر کوئی چیز نہ رکھنا جو میرے اور مٹی کے درمیان حائل ہو اور میری قبر پر کوئی عمارت تعمیر نہ کرنا اور میں تم لوگوں کو گواہ بنا کر یہ کہہ رہا ہوں کہ میں سرمونڈنے والی عورت اور چیخ و پکار کرنے والی عورت اور (گریبان پھاڑنے والی عورت سے لاتعلق ہوں) لوگوں نے دریافت کیا: کیا آپ نے اس بارے میں کوئی چیز سن رکھی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی (سن رکھی ہے)

حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا / حدیث: 3150
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الأحكام» (43): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 3140»