صحیح ابن حبان
كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا— کتاب: جنازے اور اس سے متعلق امور کے احکام و مسائل
فصل في النياحة ونحوها - ذكر الزجر عن نياحة النساء على موتاهن باب: نوحہ اور اس جیسی دیگر باتوں کے بیان میں فصل - اس بات سے منع کرنے کا ذکر کہ عورتیں اپنے مردوں پر نوحہ کریں
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بِحَرَّانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : لَمَّا جَاءَ نَعْيُ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ ، وَجَعْفَرٍ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ ، جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يُعْرَفُ فِي وَجْهِهِ الْحُزْنُ ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ ، فَقَالَ : هَذِهِ نِسَاءُ جَعْفَرٍ يَنُحْنَ عَلَيْهِ ، وَقَدْ أَكْثَرْنَ بُكَاءَهُنَّ ، قَالَ : فَأَمَرَهُ أَنْ يَنْهَاهُنَّ ، فَمَكَثَ شَيْئًا ثُمَّ رَجَعَ ، فَذَكَرَ أَنَّهُ نَهَاهُنَّ ، فَأَبَيْنَ أَنْ يُطِعْنَهُ ، فَأَمَرَهُ الثَّانِيَةَ أَنْ يَنْهَاهُنَّ ، قَالَ : فَذَكَرَ أَنَّهُ قَدْ غَلَبْنَهُ قَالَ : " فَاحْثُ فِي وُجُوهِهِنَّ التُّرَابَ " ، قَالَتْ عَمْرَةُ : فَقَالَتْ عَائِشَةُ عِنْدَ ذَلِكَ : أَرْغَمَ اللَّهُ بِآنَافِهِنَّ ، وَاللَّهِ مَا تَرَكْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَمَا أَنْتَ بِفَاعِلٍ .سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جب سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی الله عنہ کے انتقال کی اطلاع آئی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر غم کے اثرات نمایاں تھے ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی: سیدنا جعفر کے گھر کی خواتین ان پر نوحہ کر رہی ہیں اور بہت زیادہ رو رہی ہیں۔ راوی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو یہ ہدایت کی کہ وہ خواتین کو اس سے منع کر دے کچھ دیر بعد وہ شخص واپس آیا اور یہ بات ذکر کی کہ اس نے انہیں منع کیا ہے، لیکن ان خواتین نے اس کی بات ماننے سے انکار کر دیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دوبارہ یہ ہدایت کی کہ وہ انہیں منع کر دے۔ راوی کہتے ہیں: پھر اس نے آ کر یہ بات ذکر کی کہ وہ خواتین اس پر غالب آ گئی ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم ان کے چہرے پر مٹی ڈال دو۔ عمرہ نامی خاتون کہتی ہیں اس موقع پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ فرمایا:اللہ تعالیٰ ان خواتین کی ناک خاک آلود کرے اللہ کی قسم! تم اللہ کے رسول کو چھوڑتے بھی نہیں ہو اور جو (وہ تمہیں حکم دے رہے ہیں) اس پر عمل بھی نہیں کرتے۔