صحیح ابن حبان
كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا— کتاب: جنازے اور اس سے متعلق امور کے احکام و مسائل
فصل في النياحة ونحوها - ذكر الزجر عن إسعاد المرأة النساء على البكاء عند مصيبة يمتحن بها باب: نوحہ اور اس جیسی دیگر باتوں کے بیان میں فصل - اس بات سے منع کرنے کا ذکر کہ عورت مصیبت کے وقت دوسری عورتوں کو رونا سکھائے
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ حَفْصَةَ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ ، قَالَتْ : لَمَّا نَزَلَتْ : إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ إِلَى قَوْلِهِ : وَلا يَعْصِينَكَ فِي مَعْرُوفٍ سورة الممتحنة آية 12 ، قَالَتْ : كَانَ مِنْهُ النِّيَاحَةُ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِلا آلَ فُلانٍ فَإِنَّهُمْ قَدْ كَانُوا أَسْعَدُونِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، فَلا بُدَّ لِي مِنْ أَنْ أُسْعِدَهُمْ ، فَقَالَ : " إِلا آلَ فُلانٍ " .سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جب یہ آیت نازل ہوئی۔ ” جب مومن خواتین تمہارے پاس بیعت کرنے کے لیے آئیں۔ “ یہ آیت یہاں تک ہے ” اور وہ معروف کے بارے میں تمہاری نافرمانی نہیں کریں گی۔ “ سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ان میں سے ایک چیز نوحہ کرنا ہے میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے صرف فلاں خاتون کے ساتھ نوحہ کرنے کی اجازت دے دیں، کیونکہ اس نے زمانہ جاہلیت میں میرا ساتھ دیا تھا اس لیے میرے لیے یہ ضروری ہے کہ میں بھی اس کا ساتھ دوں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صرف ان کے لیے (تم نوحہ کر لینا)